کانگریس،جدیو،بی ایس پی،بیجوجنتادل اورترنمول کانگریس کامودی سے استعفیٰ کامطالبہ،نقوی کی صفائی
نئی دہلی، 20؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )گجرات میں دلتوں کے مبینہ ظلم و ستم کو لے کر کانگریس سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں کے ہنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھاکے اجلاس آج باربارمتاثرہوئی جبکہ بی جے پی کے ایک رہنما کی طرف سے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے خلاف تبصرہ پورے ایوان نے ایک آوازمیں مذمت کی۔ایوان میں آج اپوزیشن ارکان کی طرف سے آسن کے سامنے آکر نعرے بازی اور ہنگامہ کرنے کی وجہ سے اجلاس چھ بار کے التوا کے بعد اپراہن تین بج کر تقریباََ 40منٹ پرپورے دن کیلئے ملتوی کر دی گئی۔ہنگامے کی وجہ سے وقفہ سوالات بھی نہیں ہو پایا۔ایوان کا اجلاس شروع ہونے پر وقفہ صفر میں ترنمول کانگریس کے ڈیریک او برائن نے گجرات میں دلتوں کے مبینہ ظلم و ستم کا مسئلہ اٹھایا۔انہوں نے کہا گجرات میں دلتوں کااستحصال کیاجارہاہے اور یہاں اس مسئلہ پربحث تک نہیں ہو رہی ہے۔انہوں نے گجرات میں مقامی گورکشک گروپ کے ارکان کی طرف سے دلتوں پر مبینہ حملے کئے جانے کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ ایک منظم جرم ہے جو گجرات میں ہورہاہے۔اس معاملے پربحث ہونی چاہئے۔ہنگامے کے درمیان ہی سماجی انصاف اور دائرۂ اختیارکے وزیرتھاورچندگہلوت بیان دینے کیلئے اٹھے۔انہوں نے کہاکہ واقعہ کو لے کر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ریاستی حکومت نے فوری کارروائی کی اورملزمان کوگرفتارکیاگیاہے۔متاثرین کو مالی مدد دی جا رہی ہے۔واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیے گئے ہیں اور جو بھی مجرم پایا جائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ہنگامے کے درمیان کانگریس،بی ایس پی،ترنمول،بیجوجنتا دل، جے ڈی یو کے ممبر آسن کے سامنے آ کر حکومت کے خلاف نعرے لگانے لگے۔وہ نعرے لگا رہے تھے’’دلت مخالف حکومت کوبرخاست کرو‘‘وہ ان مسائل پر وزیر اعظم سے استعفےٰ کامطالبہ بھی کر رہے تھے۔ہنگامے کے درمیان ہی پارلیمانی امور کے وزیر مملکت مختارعباس نقوی نے کہا کہ اپوزیشن اراکین مینڈیٹ کی توہین کر رہے ہیں اورنریندرمودی ان کی مہربانی سے وزیراعظم نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم معاشرے کے تمام طبقوں کیلئے ایمانداری سے کام کر رہے ہیں۔چھ بار کے التوا کے بعد دوپہر تین بجے جب ایوان کی میٹنگ شروع ہوئی تو بی جے پی کے ایک رہنما کی طرف سے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے خلاف کی گئی تبصرے کا مسئلہ اٹھایا گیا اور پورے ایوان نے ایک آواز میں مذمت کی۔حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کی پارٹی کے بی ایس پی کے ساتھ سیاسی اختلافات ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ کسی ایسی عورت پر اس طرح کے تبصرے کو اجازت دے جو خود ایک سیاسی پارٹی کی لیڈر اور چار بار وزیراعلیٰ رہ چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی رہنما کی طرف سے استعمال کئے گئے الفاظ سے ان کی ذہنیت جھلکتی ہے اور اس کے خلاف پسماندہ قبیلہ کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔آزاد نے تبصرہ کرنے والے شخص کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سوچ والے شخص کے لئے کسی بھی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہوناچاہئے اور اسے کسی پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں دیا جانا چاہئے۔ایوان کے لیڈر ارون جیٹلی نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ مناسب نہیں ہے۔میں اس قسم کے الفاظ کی مذمت کرتا ہوں اور ہم اس معاملے کو دیکھیں گے۔ ذاتی طورپرافسوس کااظہار کرتا ہوں۔میں مایاوتی جی کے وقار کے ساتھ اپنے کو جوڑتا ہوں اور ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو پارٹی میں متعلقہ افراد کے علم میں لائیں گے تاکہ مناسب کارروائی کی جا سکے۔
مایاوتی کے خلاف نازیبا تبصرہ معاملے میں یوپی حکومت کرے گی کارروائی:ایس پی
اتر پردیش میں حکمراں سماج وادی پارٹی(ایس پی )نے آج بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی)سربراہ مایاوتی کے تئیں بھارتی جنتا پارٹی(بی جے پی) کے نائب صدر دیاشکر سنگھ کے’’نازیبا‘‘تبصرے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ان کے خلاف مناسب کارروائی کرے گی۔سماج وادی پارٹی کے صوبائی ترجمان راجندر چودھری نے یہاں کہاکہ نازیباتبصرے کے معاملے میں حکومت مناسب کارروائی کرے گی۔پارٹی ایسے بیانات کی مذمت کرتی ہے جو کسی عورت کے وقار کے خلاف ہوں۔یہی بی جے پی لیڈروں کا حقیقی کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو دیاشنکر سنگھ کوبرخاست کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کرنی چاہیے۔ایک ایسا شخص جس کے پاس سیاسی آداب نہیں ہیں، بی جے پی کو اس سنبھالنا چاہیے۔بی جے پی کے ریاستی نائب صدر دیاشنکر سنگھ نے آج م میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں بی ایس پی صدر مایاوتی پر زیادہ سے زیادہ دولت دینے والوں کو پارٹی کا انتخابات ٹکٹ فروخت کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف نازیبا تبصرہ کیاتھا۔تاہم معاملہ طول پکڑنے پر انہوں نے معافی بھی مانگ لی تھی۔بہر حال انہیں پارٹی نائب صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔